یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سےوگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے
ye rashk hai ki woh hota hai ham-sukhan tum sewagarna khauf-e-bad-aamozi-e-adoo kya hai
دکھ صرف اس بات کا ہے کہ رقیب تم سے باتیں کرتا ہے، ورنہ اس کے بہکانے کا کیا ڈر؟ عاشق رقیب کی سازش سے نہیں ڈرتا، بس اسے محبوب کے قریب دیکھ کر جلتا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 163 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ