tawaqqo

توقع

امید؛ امید؛ امید

Meaning: hope, expectation; expectation, hope; expectation

توقع (tawaqqo) کا مطلب ہے: امید، یا امید، یا امید۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۴ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

جس توقع پر تھی اپنی زندگی وہ مٹ گئیجو بھروسا تھا ہمیں وہ آسرا جاتا رہا

jis tawaqqo par thi apni zindagi woh mit gaijo bharosaa tha hamein woh aasraa jaata rahaa

جس امید کے سہارے زندگی چل رہی تھی وہ مٹ گئی، اور جس پر بھروسا تھا وہ سہارا بھی جاتا رہا۔ یہ مایوسی کا سادہ اور خاموش بیان ہے جسے ہر وہ شخص پہچان لیتا ہے جس کی کوئی امید ٹوٹی ہو۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وائے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہواب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا

waae gar mera tera insaaf mahshar mein na hoab talak to ye tavaqqo hai ki waan ho jaayega

افسوس، اگر قیامت کے دن بھی میرا اور تمہارا انصاف نہ ہوا تو کیا ہوگا؟ اب تک تو یہی امید تھی کہ وہاں فیصلہ ہو جائے گا۔ عاشق کی آخری امید آخرت کا انصاف ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔکیوں کسی کا گلا کرے کوئی

jab tavaqqo hi uth gai ghaalibkyon kisi kaa gilaa kare koi

غالب، جب کسی سے امید ہی نہ رہی تو کوئی کسی کی شکایت کیوں کرے؟ شکایت ٹوٹی ہوئی امید سے پیدا ہوتی ہے؛ امید ہی نہ ہو تو گلے کی گنجائش نہیں رہتی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 203 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے

hui jin se tavaqqo khastagi ki daad paane kiwoh hum se bhi zyaada khasta-e-tegh-e-sitam nikle

جن سے امید تھی کہ ہمارے زخموں پر ہمدردی کریں گے، وہ ہم سے بھی زیادہ ظلم کی تلوار کے زخمی نکلے۔ یعنی دنیا میں ہر کوئی دکھی ہے، جن سے تسلی چاہیں وہ خود تسلی کے محتاج ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ت‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت