siwa

سوا

زیادہ؛ زیادہ

Meaning: more; more than

سوا (siwa) کا مطلب ہے: زیادہ، یا زیادہ۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہےوہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے

be-talab den to maza us mein siwa milta haiwoh gada jis ko na ho khoo-e-sawaal achchha hai

بغیر مانگے کچھ ملے تو اس کا مزا زیادہ ہوتا ہے۔ اچھا فقیر وہ ہے جسے مانگنے کی عادت نہ ہو۔ یعنی خودداری سے ملنے والی چیز زیادہ خوشی دیتی ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرااک بندۂ نافرماں ہے حمد سرا تیرا

qabza ho dilon par kya aur is se siwaa teraik banda-e-naafarmaan hai hamd-saraa tera

دلوں پر تیرا اختیار اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ ایک نافرمان بندہ بھی تیری حمد گا رہا ہے۔ شاعر خود کو وہی بندہ کہتا ہے، اور کہتا ہے کہ اپنی خامیوں کے باوجود اس کا حمد کرنا ہی دلوں پر خدا کے اختیار کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 42 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’س‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت