saaqi

ساقی

شراب پلانے والا؛ پلانے والا

Meaning: the cup-bearer; the cup-bearer

ساقی (saaqi) کا مطلب ہے: شراب پلانے والا، یا پلانے والا۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

مے پرستاں خمِ مے منہ سے لگائے ہی بنےایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی

mai-parastaan khum-e-mai munh se lagaae hi baneek din gar na huaa bazm mein saaqi na sahi

اے شراب کے شوقینو، مٹکا خود ہی منہ سے لگانا پڑے گا؛ اگر ایک دن محفل میں ساقی نہیں ہے تو نہ سہی۔ جب معمول کا سہارا نہ ہو تو خود کام چلانا چاہیے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 159 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عذر پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقیہے ترے دل میں وہی کاوش انجام ابھی

uzr-e-parhez pe kehta hai bigar kar saaqihai tire dil mein wahi kaawish-e-anjaam abhi

جب میں پرہیز کا بہانہ کرتا ہوں تو ساقی ناراض ہو کر کہتا ہے کہ تیرے دل میں ابھی وہی انجام کی فکر ہے۔ یعنی عشق کی شراب سے انکار نتیجے کے خوف کی نشانی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’س‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت