افسوس ہے کہ سایۂ مرغ ہوا کی طرحہم جس کے ساتھ ساتھ چلے وہ جدا چلے
afsos hai ke saaya-e-murgh-e-havaa ki tarahham jis ke saath saath chale woh judaa chale
افسوس کہ ہم اڑتے پرندے کے سائے کی طرح جس کے ساتھ ساتھ چلے، وہ ہم سے الگ ہی رہا۔ پرندے کا سایہ زمین پر اس کے ساتھ چلتا ہے مگر کبھی اسے چھو نہیں سکتا۔ اسی طرح عاشق ہر جگہ محبوب کے پیچھے ہے مگر اس تک نہیں پہنچتا۔
شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 120 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ