حیف کہتے ہیں ہوا گلزار تاراج خزاںآشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ تھا
haif kahte hain hua gulzaar taaraaj-e-khizaanaashna apna bhi vaan ik sabza-e-begaana tha
افسوس، لوگ کہتے ہیں کہ باغ خزاں کے ہاتھوں لٹ گیا۔ وہاں ہمارا بھی ایک جاننے والا تھا، ایک بیگانہ سا سبزہ جسے کوئی اپنا نہ سمجھتا تھا۔ یعنی جو چھوٹی سی چیز ہماری تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔
خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ