sabza-e-begaana

سبزۂ بیگانہ

خودرو گھاس جسے کوئی اپنا نہ سمجھے

Meaning: a stray blade of grass that no one tends

سبزۂ بیگانہ (sabza-e-begaana) کا مطلب ہے: خودرو گھاس جسے کوئی اپنا نہ سمجھے۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۱ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

حیف کہتے ہیں ہوا گلزار تاراج خزاںآشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ تھا

haif kahte hain hua gulzaar taaraaj-e-khizaanaashna apna bhi vaan ik sabza-e-begaana tha

افسوس، لوگ کہتے ہیں کہ باغ خزاں کے ہاتھوں لٹ گیا۔ وہاں ہمارا بھی ایک جاننے والا تھا، ایک بیگانہ سا سبزہ جسے کوئی اپنا نہ سمجھتا تھا۔ یعنی جو چھوٹی سی چیز ہماری تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’س‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت