sataae

ستائے

تنگ کرے؛ تنگ کیے

Meaning: should torment; tormenting

ستائے (sataae) کا مطلب ہے: تنگ کرے، یا تنگ کیے۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوںروئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

dil hi to hai na sang-o-khisht dard se bhar na aae kyunroenge hum hazaar baar koi hamen sataae kyun

یہ دل ہی تو ہے، پتھر یا اینٹ نہیں، درد سے کیوں نہ بھر آئے؟ ہم ہزار بار روئیں گے، کوئی ہمیں اس پر کیوں ستائے؟ شاعر کہتا ہے کہ دکھ محسوس کرنا اور رونا انسان کا حق ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 107 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائےکاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے

khel samjhaa hai kahin chhor na de bhool na jaaekaash yoon bhi ho ke bin mere sataae na bane

وہ مجھے ستانے کو کھیل سمجھتا ہے؛ ڈر ہے کہیں اکتا کر چھوڑ نہ دے اور بھول نہ جائے۔ کاش ایسا ہو کہ مجھے ستائے بغیر اس سے رہا نہ جائے۔ ستم بھی غنیمت ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ وہ یاد تو کرتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 179 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’س‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت