naseem

نسیم

صبح کی ہوا؛ صبح کی ہلکی ہوا

Meaning: the morning breeze; gentle morning breeze

نسیم (naseem) کا مطلب ہے: صبح کی ہوا، یا صبح کی ہلکی ہوا۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

خبر اقبال کی لائی ہے گلستاں سے نسیمنو گرفتار پھڑکتا ہے تہ دام ابھی

khabar iqbaal ki laai hai gulsitaan se naseemnau-giraftaar pharakta hai tah-e-daam abhi

صبح کی ہوا باغ سے اقبال کی خبر لائی ہے کہ نیا پکڑا ہوا پرندہ ابھی جال کے نیچے تڑپ رہا ہے۔ مقطع میں شاعر خود کو قید پرندہ کہتا ہے جس کا حوصلہ ابھی ٹوٹا نہیں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کیا لے چلے گلی سے تری ہم کہ جوں نسیمآئے تھے سر پہ خاک اڑانے اڑا چلے

kya le chale gali se teri ham ke jyoon naseemaaye the sar pe khaak udaane udaa chale

ہم نے نسیم کی طرح تیری گلی سے کیا لیا؟ سر پر خاک اڑانے آئے تھے، سو اڑا کر چل دیے۔ صبح کی ہوا گلی سے گزرتی ہے تو صرف دھول اڑاتی ہے؛ عاشق کو بھی ماتم کے سوا کچھ نہ ملا۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 120 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ن‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت