nargis

نرگس

ایک پھول جسے آنکھ سے تشبیہ دیتے ہیں؛ ایک پھول جسے آنکھ سے تشبیہ دیتے ہیں

Meaning: the narcissus flower; the narcissus, likened to an eye

نرگس (nargis) کا مطلب ہے: ایک پھول جسے آنکھ سے تشبیہ دیتے ہیں، یا ایک پھول جسے آنکھ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

hazaaron saal nargis apni be-noori pe roti haibari mushkil se hota hai chaman mein deeda-war paida

نرگس کا پھول ہزاروں سال اپنی بے نوری پر روتا ہے؛ بڑی مشکل سے باغ میں کوئی دیدہ ور پیدا ہوتا ہے۔ شاعری میں نرگس کو آنکھ سے تشبیہ دی جاتی ہے جو دیکھ نہیں سکتی۔ یعنی صاحب بصیرت لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 306 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سبہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا

daagh aankhon se khil rahe hain sabhaath dasta hua hai nargis ka

میرے سارے داغ آنکھوں کی طرح کھل اٹھے ہیں اور میرا ہاتھ نرگس کا گلدستہ بن گیا ہے۔ اردو شاعری میں نرگس کو آنکھ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ عشق کے زخم ہاتھ پر ایسی آنکھیں بن گئے ہیں جو محبوب کی راہ دیکھ رہی ہیں۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ن‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت