lutf

لطف

مہربانی؛ مزہ؛ مہربانیاں

Meaning: kindness; pleasure; kindnesses, favours

لطف (lutf) کا مطلب ہے: مہربانی، یا مزہ، یا مہربانیاں۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۳ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

تمہاری طرز و روش جانتے ہیں ہم کیا ہے؟رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے

tumhaari tarz-o-ravish jaante hain ham kyaa hai?raqeeb par hai agar lutf to sitam kyaa hai

ہم تمہارا طور طریقہ خوب جانتے ہیں۔ اگر رقیب پر مہربانی ہے تو پھر ظلم اور کیا ہے؟ کسی اور پر کی گئی مہربانی عاشق کے لیے سب سے بڑا ستم ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 203 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

duniya ki mehfilon se ukta gaya hoon ya rabkya lutf anjuman ka jab dil hi bujh gaya ho

اے خدا، میں دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں۔ جب دل ہی بجھ جائے تو محفل کا کیا مزہ؟ یعنی اداسی اندر ہے، باہر کی رونق اسے دور نہیں کر سکتی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پرمجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

woh jo lutf mujh pe the beshtar woh karam ke tha mere haal parmujhe sab hai yaad zaraa zaraa tumhein yaad ho ke na yaad ho

تم جو پہلے مجھ پر مہربانیاں کرتے تھے، میرے حال پر جو عنایت تھی، مجھے ذرا ذرا سب یاد ہے، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ عاشق اپنی پوری یاد کا مقابلہ محبوب کے بدلے ہوئے رویے سے کرتا ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 144 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ل‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت