کتنے شیریں ہیں تیرے لب، کہ رقیبگالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
kitne shireen hain tere lab, ki raqeebgaaliyaan kha ke be-maza na hua
تمہارے ہونٹ کتنے میٹھے ہیں کہ رقیب گالیاں سن کر بھی بد مزہ نہ ہوا۔ ایسے میٹھے لبوں سے گالی بھی میٹھی لگتی ہے۔ یہ محبوب کی دل کشی اور رقیب کی ڈھٹائی پر ایک شوخ شعر ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 27 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
lab pe aati hai duaa ban ke tamanna merizindagi shamaa ki soorat ho khudaaya meri
بچہ کہتا ہے کہ میری آرزو دعا بن کر ہونٹوں پر آتی ہے۔ دعا یہ ہے کہ اے خدا میری زندگی شمع جیسی ہو۔ شمع خود جلتی ہے مگر دوسروں کو روشنی دیتی ہے، اسی طرح میری زندگی بھی دوسروں کے کام آئے۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ