سچ کہتے ہو خودبین و خودآرا ہوں، نہ کیوں ہوں؟بیٹھا ہے بتِ آئینہ سیما مرے آگے
sach kehte ho khud-been-o-khud-aaraa hoon, na kyon hoon?baithaa hai but-e-aaeena-seemaa mere aage
سچ کہتے ہو کہ میں خودبین اور خودآرا ہوں؛ کیوں نہ ہوں جب آئینے جیسی پیشانی والا محبوب میرے سامنے بیٹھا ہے؟ محبوب کو دیکھنا آئینہ دیکھنے جیسا ہے، اس لیے عاشق خود پر بھی نازاں ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 194 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ