دل ہوائے خرامِ ناز سے پھرمحشرستانِ بے قراری ہے
dil havaa-e-khiraam-e-naaz se phirmahshar-istaan-e-beqaraari hai
محبوب کی ناز بھری چال کی آرزو نے دل کو پھر بے قراری کا میدانِ حشر بنا دیا ہے۔ اس کی چال کا خیال ہی اندر قیامت برپا کر دیتا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 152 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ