karam

کرم

مہربانی؛ مہربانی، فضل؛ مہربانی، عنایت

Meaning: kindness, a favour; grace, kindness; grace, generosity

کرم (karam) کا مطلب ہے: مہربانی، یا مہربانی، فضل، یا مہربانی، عنایت۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۳ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

نوکروں پر جو گزرتی ہے مجھے معلوم ہےبس کرم کیجے مجھے بیکار رہنے دیجیے

naukaron par jo guzarti hai mujhe maaloom haibas karam keeje mujhe bekaar rahne deejiye

کوئی شاعر کو نوکری دلانا چاہتا ہے۔ وہ ادب سے انکار کرتا ہے کہ نوکروں پر جو گزرتی ہے وہ مجھے معلوم ہے، بس مہربانی کیجیے اور مجھے بیکار ہی رہنے دیجیے۔ اکبر انگریزی دور میں نوکری کی دوڑ پر ہنستے ہیں جہاں عہدہ اکثر ذلت کے ساتھ ملتا تھا۔

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 255 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہے خوف اگر جی میں تو ہے تیرے غضب سےاور دل میں بھروسا ہے تو ہے تیرے کرم کا

hai khauf agar ji mein to hai tere ghazab seaur dil mein bharosa hai to hai tere karam ka

اگر دل میں کوئی ڈر ہے تو صرف تیرے غضب کا، اور اگر کوئی بھروسا ہے تو صرف تیرے کرم کا۔ یعنی ڈر اور امید دونوں کا مرکز ایک ہی ذات ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پرمجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

woh jo lutf mujh pe the beshtar woh karam ke tha mere haal parmujhe sab hai yaad zaraa zaraa tumhein yaad ho ke na yaad ho

تم جو پہلے مجھ پر مہربانیاں کرتے تھے، میرے حال پر جو عنایت تھی، مجھے ذرا ذرا سب یاد ہے، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ عاشق اپنی پوری یاد کا مقابلہ محبوب کے بدلے ہوئے رویے سے کرتا ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 144 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ک‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت