الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
ulti ho gain sab tadbeeren kuchh na davaa ne kaam kiyadekha is beemaari-e-dil ne aakhir kaam tamaam kiya
شاعر کہتا ہے کہ میری ساری تدبیریں الٹی پڑ گئیں اور کسی دوا نے اثر نہ کیا۔ دیکھ لو، آخر اس دل کی بیماری یعنی عشق نے میرا کام تمام کر دیا۔ کلاسیکی شاعری میں عشق ایک لاعلاج مرض ہے، اور یہ شعر سادہ بول چال کے انداز میں یہی بات کہتا ہے۔
میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ