آزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو
aazaad fikr se hoon uzlat mein din guzaaroonduniya ke gham ka dil se kaanta nikal gaya ho
میں فکروں سے آزاد ہو کر تنہائی میں دن گزاروں اور دنیا کے غم کا کانٹا میرے دل سے نکل چکا ہو۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ