مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائےہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
magar likhwaae koi us ko khat to hum se likhwaaehui subh aur ghar se kaan par rakh kar qalam nikle
اگر کوئی اسے خط لکھوانا چاہے تو ہم سے لکھوائے۔ صبح ہوئی اور ہم کان پر قلم رکھ کر گھر سے نکل پڑے، جیسے پرانے زمانے کے منشی۔ عاشق محبوب سے تعلق کا کوئی بھی بہانہ ڈھونڈ لیتا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ