دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہاراس چراغاں کا کروں کیا کارفرما جل گیا
dil nahin tujh ko dikhaata warna daaghon ki bahaaris charaaghaan ka karoon kya kaar-farma jal gaya
میں تمہیں داغوں کی بہار دکھاتا، مگر کیا کروں، اس چراغاں کا منتظم یعنی دل خود ہی جل گیا۔ عشق کے داغ چراغوں کی طرح ہیں اور انہیں سنبھالنے والا دل باقی نہیں رہا۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ