fariyaad

فریاد

دہائی، شکایت؛ دہائی، پکار

Meaning: plea, cry for help; cry for help

فریاد (fariyaad) کا مطلب ہے: دہائی، شکایت، یا دہائی، پکار۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والےدکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے

gaana use samajh kar khush hon na sunne waaledukhe hue dilon ki fariyaad yeh sadaa hai

پرندہ کہتا ہے کہ سننے والے اسے گانا سمجھ کر خوش نہ ہوں، یہ تو دکھی دلوں کی فریاد ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 24 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

نہ تو آیا مری سن کر فریاددم لبوں پر دم فریاد آیا

na to aayaa meri sun kar faryaaddam labon par dam-e-faryaad aayaa

تم میری فریاد سن کر بھی نہ آئے؛ فریاد کے دم ہی میرا دم لبوں پر آ گیا۔ “دم” کی تکرار میں سانس اور لمحہ دونوں معنی ہیں: محبوب کو پکارتے پکارتے عاشق کی جان نکلنے لگی۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ف‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت