عشق میں تیشۂ آخر کے سواکچھ ترے کام نہ فرہاد آیا
ishq mein teesha-e-aakhir ke sivaakuchh tere kaam na farhaad aayaa
اے فرہاد، عشق میں آخری تیشے کے سوا کچھ تیرے کام نہ آیا۔ فارسی قصے میں فرہاد نے شیریں کے لیے پہاڑ کاٹ کر نہر نکالی؛ جب اسے جھوٹی خبر ملی کہ شیریں مر گئی تو اس نے اپنا تیشہ اپنے سر پر مار لیا۔ ظفر کہتے ہیں ساری محنت بے کار گئی؛ صرف موت نے اس کا درد ختم کیا۔
بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ