تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میرسمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا
tha vo to rashk-e-hoor-e-bihishti hameen mein Mirsamjhe na ham to fahm ka apni qusoor tha
میر کہتے ہیں کہ وہ حسین جس پر جنت کی حوریں بھی رشک کریں، ہمارے ہی درمیان تھا۔ ہم اسے پہچان نہ سکے تو یہ ہماری سمجھ کا قصور تھا۔ اکثر جو چیز پاس ہوتی ہے ہم اسے دور ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ