ہم کو ان سے وفا کی ہے امیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہے
hum ko un se wafa ki hai ummeedjo nahin jaante wafa kya hai
ہمیں ان سے وفا کی امید ہے جو یہ بھی نہیں جانتے کہ وفا کیا ہوتی ہے۔ عاشق جانتا ہے کہ اس کی امید بے کار ہے، پھر بھی اسے چھوڑ نہیں سکتا۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ