مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کاحقا کہ خداوند ہے تو لوح و قلم کا
maqdoor hamen kab tere vasfon ki raqam kahaqqa ki khudaavand hai tu lauh o qalam ka
یہ حمد کا شعر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم میں کہاں یہ طاقت کہ تیری خوبیاں لکھ سکیں؟ بے شک تو ہی لوح و قلم کا مالک ہے۔ جو ساری تحریر کا مالک ہو اسے ہماری تحریر بیان نہیں کر سکتی۔
خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ