وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہواخواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
vaae naadaani ki vaqt-e-marg ye saabit huakhvaab tha jo kuchh ki dekha jo suna afsaana tha
افسوس ہماری نادانی پر کہ موت کے وقت جا کر یہ بات ثابت ہوئی کہ جو کچھ دیکھا وہ خواب تھا اور جو کچھ سنا وہ کہانی تھی۔ ساری عمر دنیا کو اصل سمجھتے رہے اور حقیقت بہت دیر سے سمجھ میں آئی۔
خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
وائے دیوانگیِ شوق کہ ہر دم مجھ کوآپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا
waae deewaangi-e-shauq ki har dam mujh koaap jaana udhar aur aap hi hairaan hona
افسوس اس شوق کے جنون پر کہ ہر لمحہ خود ہی اس طرف چل پڑتا ہوں اور پھر خود ہی حیران ہوتا ہوں۔ عاشق خود کو روک نہیں پاتا اور پھر اپنی ہی حرکت پر حیرت کرتا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
وائے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہواب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
waae gar mera tera insaaf mahshar mein na hoab talak to ye tavaqqo hai ki waan ho jaayega
افسوس، اگر قیامت کے دن بھی میرا اور تمہارا انصاف نہ ہوا تو کیا ہوگا؟ اب تک تو یہی امید تھی کہ وہاں فیصلہ ہو جائے گا۔ عاشق کی آخری امید آخرت کا انصاف ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ