taqdeer

تقدیر

قسمت؛ قسمت؛ مقدر

Meaning: fate, destiny; fate; destiny

تقدیر (taqdeer) کا مطلب ہے: قسمت، یا قسمت، یا مقدر۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۳ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

کچھ قیامت تو نہ تھی ہجر کی شب اے تقدیراس بلا کو کسی تدبیر سے ٹالا ہوتا

kuchh qayaamat to na thi hijr ki shab ae taqdeeris balaa ko kisi tadbeer se taalaa hota

شاعر تقدیر سے کہتا ہے کہ جدائی کی رات کوئی قیامت تو نہ تھی جسے کوئی روک نہ سکے۔ یہ تو ایک عام سی مصیبت تھی، تو اسے کسی تدبیر سے ٹال دیتی۔ یہ تقدیر سے نرم سی شکایت ہے کہ اس نے کوشش بھی نہ کی۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہاس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا

tum se be-ja hai mujhe apni tabaahi ka gilais mein kuchh shaaiba-e-khoobi-e-taqdeer bhi tha

تم سے اپنی بربادی کی شکایت کرنا غلط ہے، اس میں کچھ ہماری اچھی قسمت کا بھی ہاتھ تھا۔ تقدیر کی تعریف طنز ہے؛ عاشق محبوب کو الزام دینے کے بجائے قسمت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری

maasiwa-allah ke liye aag hai takbeer tiritu musalmaan ho to taqdeer hai tadbeer tiri

تیری تکبیر اللہ کے سوا ہر چیز کے لیے آگ ہے؛ اگر تو سچا مسلمان ہو تو تیری تدبیر ہی تیری تقدیر بن جاتی ہے۔ یعنی سچا ایمان رکھنے والا اپنی کوشش سے تقدیر بناتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 232 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ت‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت