اپنے ہی دل کے ہاتھ اب میں بک گیا ہوں اکبرسر میں نہیں رہا وہ سودائے خود فروشی
apne hi dil ke haath ab main bik gayaa hoon akbarsar mein nahin rahaa woh saudaa-e-khud-faroshi
اکبر کہتے ہیں کہ اب میں صرف اپنے دل کے ہاتھ بک گیا ہوں، دوسروں کے ہاتھ خود کو بیچنے کا وہ جنون سر سے اتر گیا ہے۔ “خود فروشی” اکبر کے ہاں طاقتوروں سے عہدہ اور مہربانی مانگنے کی علامت ہے۔ یہاں وہ اعلان کرتے ہیں کہ اب وہ صرف اپنے ضمیر کو جواب دہ ہیں۔
اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 219 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ