sanam-aashna

صنم آشنا

بتوں سے واقف، دنیا کی محبت میں گرفتار

Meaning: attached to idols (worldly loves)

صنم آشنا (sanam-aashna) کا مطلب ہے: بتوں سے واقف، دنیا کی محبت میں گرفتار۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۱ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صداترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

jo main sar-ba-sajda hua kabhi to zameen se aane lagi sadaatira dil to hai sanam-aashna tujhe kya mile ga namaaz mein

جب بھی میں نے سجدے میں سر رکھا تو زمین سے آواز آئی: تیرا دل تو بتوں کا آشنا ہے، تجھے نماز میں کیا ملے گا؟ یعنی خالص دل کے بغیر عبادت خالی ہے؛ یہاں بتوں سے مراد دنیا کی وہ چیزیں ہیں جن سے دل لگا ہوا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 321 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ص‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت