sambhaalaa

سنبھالا

تھاما، قابو میں رکھا

Meaning: took up; held steady

سنبھالا (sambhaalaa) کا مطلب ہے: تھاما، قابو میں رکھا۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۱ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

تیشۂ فرہاد نے بیکار سنبھالا اے عشقکام بنتا جو ذرا دل کو سنبھالا ہوتا

teesha-e-farhaad ne bekaar sambhaalaa ae ishqkaam bantaa jo zaraa dil ko sambhaalaa hota

فرہاد نے شیریں کو پانے کے لیے تیشے سے پہاڑ کاٹا اور جان دے دی۔ شاعر کہتا ہے کہ اے عشق، فرہاد نے تیشہ بیکار سنبھالا، اگر وہ ذرا اپنے دل کو سنبھال لیتا تو کام بن جاتا۔ لفظ “سنبھالنا” کے دو معنی، اوزار تھامنا اور دل کو قابو میں رکھنا، یہ بتاتے ہیں کہ ضبط بہادری سے زیادہ مشکل اور زیادہ کارآمد ہے۔

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 10 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’س‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت