کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میںکہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
kabhi ae haqeeqat-e-muntazar nazar aa libaas-e-majaaz meinki hazaaron sajde tarap rahe hain miri jabeen-e-niyaaz mein
اے وہ حقیقت جس کا انتظار ہے، کبھی ظاہری صورت میں نظر آ، کیونکہ میری عاجز پیشانی میں ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں۔ شاعر اس ذات کو دیکھنے کی آرزو کرتا ہے جو نظر نہیں آتی، تاکہ اس کے آگے جھک سکے۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 320 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ