حالی نشاط نغمہ و مے ڈھونڈتے ہو ابآئے ہو وقت صبح رہے رات بھر کہاں
haali nishaat-e-naghma-o-mai dhoondte ho abaae ho waqt-e-subh rahe raat bhar kahaan
مقطع میں حالی خود کو چھیڑتے ہیں: اے حالی، اب تم نغمے اور شراب کی رونق ڈھونڈتے ہو؟ تم صبح کے وقت آئے ہو جب محفل ختم ہو چکی، رات بھر کہاں رہے؟ یہ گزری ہوئی جوانی کا نرم سا سبق ہے کہ بعض چیزوں کا وقت گزر جاتا ہے اور دیر سے پہنچنے والا انھیں کھو دیتا ہے۔
الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 88 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ