نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
naqsh faryaadi hai kis ki shokhi-e-tahreer kakaaghazi hai pairahan har paikar-e-tasveer ka
تصویر کی ہر شکل کاغذ کا لباس پہنے ہوئے ہے، جیسے کوئی فریادی ہو۔ سوال یہ ہے کہ یہ کس کی شوخیِ تحریر کی شکایت کر رہی ہے؟ دیوان کے اس پہلے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کائنات کی ہر بنی ہوئی چیز کمزور اور فانی ہے اور گویا اپنے بنانے والے سے فریاد کر رہی ہے۔ کاغذی لباس پرانے زمانے کے فریادیوں کے رواج کی طرف بھی اشارہ ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ