آہ وہ جرأتِ فریاد کہاںدل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا
aah woh jur'at-e-faryaad kahaandil se tang aa ke jigar yaad aaya
افسوس، فریاد کرنے کی وہ ہمت اب کہاں! دل سے عاجز آ کر جگر یاد آیا جو کبھی فریاد کر سکتا تھا۔ عاشق کو وہ وقت یاد آتا ہے جب کم از کم شکایت کی طاقت تھی۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ