کاو کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھصبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
kaav-kaav-e-sakht-jaani-haa-e-tanhaai na poochhsubh karna shaam ka laana hai joo-e-sheer ka
تنہائی میں زندہ رہنے کی سخت محنت کا حال نہ پوچھو۔ جدائی کی ایک رات کو صبح تک پہنچانا ایسا ہی ہے جیسے پہاڑ کاٹ کر دودھ کی نہر لانا۔ یہاں فرہاد کے قصے کی طرف اشارہ ہے جس نے شیریں کے لیے پہاڑ کاٹ کر نہر نکالی تھی۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ