منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کاحیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
munh taka hi kare hai jis tis kahairati hai ye aaina kis ka
یہ آئینہ ہر آنے والے کا منہ تکتا رہتا ہے۔ آخر یہ کس کے حسن کو دیکھ کر حیران ہوا ہے؟ شاعر کا خیال ہے کہ آئینے نے کبھی محبوب کو دیکھ لیا تھا اور تب سے حیرت میں ڈوبا ہوا ہے۔
میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ