جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیےسینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
jazba-e-be-ikhtiyaar-e-shauq dekha chaahiyeseena-e-shamsheer se baahar hai dam shamsheer ka
شوق کا بے قابو جذبہ دیکھو کہ تلوار کا دم یعنی اس کی دھار اس کے سینے سے باہر نکل آئی ہے۔ گویا تلوار خود عاشق کو قتل کرنے کے شوق میں بے قرار ہے۔ لفظ دم کے دو معنی ہیں، سانس اور دھار، اور شاعر نے دونوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ