پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نامہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
peshe mein aib nahin, rakhiye na Farhaad ko naamhum hi aashufta-saron mein woh jawaan Mir bhi tha
پیشے میں کوئی عیب نہیں، فرہاد کو سنگ تراش ہونے کا طعنہ نہ دیجیے۔ ہم دیوانوں میں وہ بھی ایک بہادر نوجوان تھا۔ شاعر فرہاد کی طرف داری کرتا ہے جس نے عشق میں پہاڑ کاٹا تھا۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ