عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تری
aql hai teri sipar ishq hai shamsheer tirimire darvesh khilaafat hai jahaangeer tiri
عقل تیری ڈھال ہے اور عشق تیری تلوار؛ اے میرے درویش، تیری خلافت ساری دنیا کو فتح کر سکتی ہے۔ یعنی عقل حفاظت کرتی ہے مگر عمل کی طاقت عشق دیتا ہے۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 232 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ