diya

دیا

چراغ؛ چراغ؛ چراغ

Meaning: small oil lamp; lamp; oil lamp

دیا (diya) کا مطلب ہے: چراغ، یا چراغ، یا چراغ۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۳ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعلچمکا کے مجھے دیا بنایا

allah ne di hai mujh ko mash'alchamka ke mujhe diya banaaya

جگنو بتاتا ہے کہ اللہ نے مجھے مشعل دی ہے، مجھے چمکا کر چراغ بنا دیا ہے۔ یعنی جو صلاحیت ملی ہے وہ دوسروں کے کام آنے کے لیے ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھادیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا

voh peechhe thaa aur tez chaltaa na thaadiyaa us ke haathon mein jaltaa na thaa

وہ سب سے پیچھے تھا اور تیز نہیں چل پا رہا تھا؛ اس کے ہاتھ میں دیا جل نہیں رہا تھا۔ کوئی چیز اسے روک رہی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 22 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو

raaton ko chalne waale reh jaaen thak ke jis damummeed un ki mera toota hua diya ho

رات کو سفر کرنے والے جب تھک کر رک جائیں تو میرا ٹوٹا پھوٹا چراغ ان کی امید بنے۔ یعنی تنہائی میں بھی شاعر دوسروں کے کام آنا چاہتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’د‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت