غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگرکوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
ghair phirtaa hai liye yoon tere khat ko ke agarkoi poochhe ke ye kyaa hai to chhupaae na bane
رقیب تیرا خط اس طرح لیے پھرتا ہے کہ اگر کوئی پوچھے یہ کیا ہے تو چھپایا نہ جا سکے۔ عاشق کو شک ہے کہ رقیب جان بوجھ کر خط کی نمائش کر رہا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ