خواجہ میر درد کی غزل

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا

Jag Mein Aa Kar Idhar Udhar Dekha · Ghazal by Khwaja Mir Dard

یہ غزل خواجہ میر درد کی ہے اور یہاں دیوانِ میر درد (1922) کے صفحہ ۴ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This ghazal is by Khwaja Mir Dard, from Diwan-e-Mir Dard (1922), p. 4.

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھاتو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

jag mein aa kar idhar udhar dekhatu hi aaya nazar jidhar dekha

  • جگ jagدنیا (the world)
  • جدھر jidharجس طرف (wherever)

آسان تشریح

دنیا میں آ کر میں نے ادھر ادھر دیکھا، جس طرف بھی نظر گئی تو ہی دکھائی دیا۔ بہت سادہ لفظوں میں درد نے صوفیانہ خیال بیان کیا ہے کہ ہر چیز میں خدا کا جلوہ ہے۔

In plain English

Coming into the world, I looked here and there; wherever I looked, I saw only You. In simple words, Dard expresses the Sufi idea that God is present in everything.

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 4 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

جان سے ہو گئے بدن خالیجس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا

jaan se ho gaye badan khaalijis taraf tu ne aankh bhar dekha

  • بدن badanجسم (bodies)
  • آنکھ بھر aankh bharپوری نظر سے، غور سے (with a full gaze)

آسان تشریح

تو نے جس طرف بھی بھرپور نظر سے دیکھا وہاں جسم جان سے خالی ہو گئے۔ یعنی محبوب کی نظر میں اتنا اثر ہے کہ جس پر پڑے وہ اپنے ہوش کھو بیٹھے۔

In plain English

Wherever you turned a full gaze, the bodies there were emptied of life. The beloved's look is so powerful that those it falls on lose their senses, as if their souls had left them.

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 4 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

نالہ فریاد آہ اور زاریآپ سے ہو سکا سو کر دیکھا

naala fariyaad aah aur zaariaap se ho saka so kar dekha

  • نالہ naalaرونا، فریاد (lament)
  • زاری zaariگڑگڑانا، رونا دھونا (weeping, pleading)
  • آپ سے aap seخود سے، اپنی طرف سے (by myself)

آسان تشریح

رونا، فریاد کرنا، آہیں بھرنا اور گڑگڑانا، جو کچھ ہم سے ہو سکا ہم نے کر کے دیکھ لیا۔ عاشق نے ہر طریقہ آزما لیا مگر نتیجہ نہیں نکلا۔

In plain English

Lament, crying out, sighs and pleading: I tried everything I could by myself. The lover has used every means and still waits for an answer.

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 4 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ان لبوں نے نہ کی مسیحائیہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا

in labon ne na ki maseehaaiham ne sau sau tarah se mar dekha

  • لبوں labonہونٹوں (lips)
  • مسیحائی maseehaaiمردے کو زندہ کرنا (حضرت عیسیٰؑ کا معجزہ)، شفا دینا (the healing power of the Messiah, reviving the dead)

آسان تشریح

ہم نے سو سو طرح سے مر کر دیکھا مگر محبوب کے ہونٹوں نے مسیحائی نہ کی۔ روایت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اپنی پھونک سے مردے زندہ کر دیتے تھے۔ عاشق کو امید تھی کہ محبوب کے لب اسے زندگی دیں گے، مگر ایسا نہ ہوا۔

In plain English

We tried dying in a hundred different ways, but those lips never worked the Messiah's miracle on us. Hazrat Isa is said to have revived the dead with his breath; the lover hoped the beloved's lips would revive him, but they never did.

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 4 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

زور عاشق مزاج ہے کوئیدرد کو قصہ مختصر دیکھا

zor aashiq-mizaaj hai koiDard ko qissa-mukhtasar dekha

  • زور zorبہت زیادہ، کیا خوب (truly, exceedingly)
  • عاشق مزاج aashiq-mizaajعاشقانہ طبیعت والا (of a lover's temperament)
  • قصہ مختصر qissa-mukhtasarمختصر یہ کہ (in short)

آسان تشریح

یہ درد بھی کیا عاشق مزاج آدمی ہے، قصہ مختصر ہم نے درد کو یہی پایا۔ مقطع میں پوری غزل کا خلاصہ ایک بات میں کہہ دیا گیا ہے۔

In plain English

He is a true lover at heart, this Dard: that, in short, is what we saw of him. The maqta sums up the whole ghazal in one line.

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 4 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
دیوانِ میر درد · Diwan-e-Mir Dard · Printed at Matba Karimi, Lahore, under Mir Amir Bakhsh, for Sheikh Mubarak Ali, bookseller, Andaroon Lohari Darwaza، Lahore 1922
صفحات
4 · اسکین ۱
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

خواجہ میر درد کا مزید کلام