جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کواک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا
jama karte ho kyun raqeebon koik tamaasha hua, gila na hua
میں شکایت کرتا ہوں تو تم رقیبوں کو کیوں جمع کر لیتے ہو؟ اس طرح میری شکایت تماشا بن گئی، شکایت نہ رہی۔ عاشق چاہتا ہے کہ بات صرف دونوں کے درمیان رہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 26 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ