shamsheer

شمشیر

تلوار

Meaning: sword

شمشیر (shamsheer) کا مطلب ہے: تلوار۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیےسینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

jazba-e-be-ikhtiyaar-e-shauq dekha chaahiyeseena-e-shamsheer se baahar hai dam shamsheer ka

شوق کا بے قابو جذبہ دیکھو کہ تلوار کا دم یعنی اس کی دھار اس کے سینے سے باہر نکل آئی ہے۔ گویا تلوار خود عاشق کو قتل کرنے کے شوق میں بے قرار ہے۔ لفظ دم کے دو معنی ہیں، سانس اور دھار، اور شاعر نے دونوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تری

aql hai teri sipar ishq hai shamsheer tirimire darvesh khilaafat hai jahaangeer tiri

عقل تیری ڈھال ہے اور عشق تیری تلوار؛ اے میرے درویش، تیری خلافت ساری دنیا کو فتح کر سکتی ہے۔ یعنی عقل حفاظت کرتی ہے مگر عمل کی طاقت عشق دیتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 232 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ش‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت