mudda'aa

مدعا

مطلب، مقصد؛ مطلب، بات کا مقصد؛ مقصد، دل کی بات

Meaning: the meaning, intent; the point, the intent; what one wants to say

مدعا (mudda'aa) کا مطلب ہے: مطلب، مقصد، یا مطلب، بات کا مقصد، یا مقصد، دل کی بات۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۳ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائےمدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا

aagahi daam-e-shuneedan jis qadar chaahe bichhaaemudda'aa anqa hai apne aalam-e-taqreer ka

سمجھ جتنا چاہے سننے کا جال بچھا لے، ہمارے کلام کا اصل مطلب عنقا ہے یعنی ہاتھ نہیں آتا۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی بات کا پورا مفہوم لفظوں سے آگے ہے اور سننے والا اسے پوری طرح پکڑ نہیں سکتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا

kehte ho na denge hum dil agar pada paayadil kahaan ki gum keeje hum ne mudda'aa paaya

تم کہتے ہو کہ اگر ہمیں تمہارا دل کہیں پڑا ملا تو واپس نہ دیں گے۔ مگر دل اب ہمارے پاس ہے کہاں جو گم کریں؟ ہم تمہاری بات کا مطلب سمجھ گئے، یعنی دل تو پہلے ہی تمہارے پاس ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوںکاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

main bhi munh mein zabaan rakhta hoonkaash poochho ki mudda'aa kya hai

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں، کاش تم پوچھو کہ میری بات کیا ہے۔ عاشق بول سکتا ہے مگر چاہتا ہے کہ محبوب خود پوچھے؛ یہ ہلکا سا شکوہ ہے کہ وہ کبھی سنتا ہی نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’م‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت