Majnoon

مجنوں

لیلیٰ کا عاشق، دیوانہ؛ لیلیٰ کا عاشق؛ لیلیٰ کا عاشق، دیوانگی کی مثال

Meaning: Majnun, the legendary lover of Laila; Majnun, Laila's lover; Majnun, Laila's lover, the type of the mad lover

مجنوں (Majnoon) کا مطلب ہے: لیلیٰ کا عاشق، دیوانہ، یا لیلیٰ کا عاشق، یا لیلیٰ کا عاشق، دیوانگی کی مثال۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۳ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدسنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

main ne Majnoon pe ladakpan mein Asadsang uthaaya tha ki sar yaad aaya

اسد! بچپن میں میں نے مجنوں کو مارنے کے لیے پتھر اٹھایا تھا کہ اپنا سر یاد آ گیا۔ بچے دیوانے پر پتھر پھینکتے تھے؛ شاعر کو خیال آیا کہ ایک دن وہ بھی ایسا ہی عاشق ہوگا اور یہی پتھر اس کے سر پر پڑیں گے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کاممجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے

aashiq hoon pe maashooq-farebi hai meraa kaammajnoon ko buraa kehti hai lailaa mere aage

میں عاشق ہوں مگر محبوب کو رجھا لینا میرا ہنر ہے؛ میرے سامنے لیلیٰ بھی مجنوں کو برا کہتی ہے۔ غالب فخر سے کہتے ہیں کہ وہ مشہور ترین محبوبہ کو بھی مشہور ترین عاشق سے پھیر سکتے ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 195 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

بول اٹھا دیکھ کے مجنوں مجھ کویہ تو کوئی مرا استاد آیا

bol uthaa dekh ke majnoon mujh koye to koi mera ustaad aayaa

مجھے دیکھ کر مجنوں بول اٹھا کہ یہ تو کوئی میرا استاد آ گیا۔ مجنوں عشق کی دیوانگی کی سب سے بڑی مثال ہے؛ اگر وہ بھی شاعر کو اپنا استاد کہے تو شاعر کا عشق حد سے بڑھ کر ہے۔ یہ فخریہ اور شوخ انداز کا شعر ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’م‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت