kushta-e-sitam

کشتۂ ستم

ظلم کا مارا ہوا

Meaning: one slain by cruelty

کشتۂ ستم (kushta-e-sitam) کا مطلب ہے: ظلم کا مارا ہوا۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۱ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرفاے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا

jaata hai yaar tegh-ba-kaf ghair ki tarafae kushta-e-sitam teri ghairat ko kya hua

محبوب ہاتھ میں تلوار لیے رقیب کی طرف جا رہا ہے۔ اے ستم کے مارے ہوئے، تیری غیرت کو کیا ہوا؟ یعنی عاشق کو اس بات پر غیرت آنی چاہیے کہ محبوب کا ستم بھی اب کسی اور کے حصے میں جا رہا ہے۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ک‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت