ہو گیا مہمان سرائے کثرت موہوم آہوہ دل خالی کہ تیرا خاص خلوت خانہ تھا
ho gaya mehmaan-saraa-e-kasrat-e-mauhoom aahvo dil-e-khaali ki tera khaas khalvat-khaana tha
افسوس، وہ خالی دل جو تیرا خاص تنہائی کا کمرہ تھا، دنیا کی وہمی چیزوں کی سرائے بن گیا۔ دل کو صرف خدا کے لیے خالی رہنا چاہیے تھا مگر دنیا کی ہزاروں چیزیں اس میں مسافروں کی طرح آ بسیں۔
خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ