ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے
ek jalwa tha kaleem-e-toor-e-seena ke liyetu tajalli hai saraapa chashm-e-beena ke liye
حضرت موسیٰ کو کوہ طور پر ایک جلوہ نظر آیا تھا، مگر اے ہمالہ تو دیکھنے والی آنکھ کے لیے سر سے پاؤں تک نور ہی نور ہے۔ یعنی ہمالہ خالق کی شان کی نشانی ہے۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ