haif

حیف

افسوس؛ افسوس

Meaning: alas; alas, what a pity

حیف (haif) کا مطلب ہے: افسوس، یا افسوس۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

حیف کہتے ہیں ہوا گلزار تاراج خزاںآشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ تھا

haif kahte hain hua gulzaar taaraaj-e-khizaanaashna apna bhi vaan ik sabza-e-begaana tha

افسوس، لوگ کہتے ہیں کہ باغ خزاں کے ہاتھوں لٹ گیا۔ وہاں ہمارا بھی ایک جاننے والا تھا، ایک بیگانہ سا سبزہ جسے کوئی اپنا نہ سمجھتا تھا۔ یعنی جو چھوٹی سی چیز ہماری تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبجس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

haif us chaar girah kapde ki qismat Ghalibjis ki qismat mein ho aashiq ka girebaan hona

غالب! افسوس اس چار گرہ کپڑے کی قسمت پر جس کے نصیب میں عاشق کا گریبان بننا لکھا ہو۔ دیوانہ عاشق بار بار گریبان چاک کرتا ہے، اس لیے وہ کپڑا کبھی سلامت نہیں رہتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 17 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ح‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت