habaab

حباب

پانی کا بلبلہ؛ پانی کا بلبلہ

Meaning: a bubble; water bubble

حباب (habaab) کا مطلب ہے: پانی کا بلبلہ، یا پانی کا بلبلہ۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

مانند حباب آنکھ تو اے درد کھلی تھیکھینچا نہ پر اس بحر میں عرصہ کوئی دم کا

maanind-e-habaab aankh to ae Dard khuli thikhaincha na par is bahr mein arsa koi dam ka

اے درد، بلبلے کی طرح آنکھ تو کھلی تھی مگر اس سمندر میں ایک سانس جتنا وقت بھی نہ گزرا۔ بلبلہ پانی پر بنتا ہے اور فوراً پھوٹ جاتا ہے، انسان کی زندگی بھی کائنات کے سمندر میں اتنی ہی مختصر ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ایک دم پر ہوا نہ باندھ حبابدم کو دم بھر میں یاں ہوا دیکھا

ek dam par havaa na baandh habaabdam ko dam bhar mein yaan havaa dekhaa

اے بلبلے، ایک سانس پر اتنا غرور نہ کر؛ یہاں ہم نے سانس کو ایک لمحے میں ہوا ہوتے دیکھا ہے۔ بلبلہ پانی میں بند تھوڑی سی ہوا ہے جو فوراً پھوٹ جاتا ہے۔ شاعر ایک پل میں ختم ہو جانے والی زندگی پر غرور سے منع کرتا ہے۔

بہادر شاہ ظفر · کلیاتِ ظفر (1918)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ح‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت