آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائےمدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
aagahi daam-e-shuneedan jis qadar chaahe bichhaaemudda'aa anqa hai apne aalam-e-taqreer ka
سمجھ جتنا چاہے سننے کا جال بچھا لے، ہمارے کلام کا اصل مطلب عنقا ہے یعنی ہاتھ نہیں آتا۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی بات کا پورا مفہوم لفظوں سے آگے ہے اور سننے والا اسے پوری طرح پکڑ نہیں سکتا۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ